اپنے دربار میں آنے کی اجازت دی ہے
اِک گنہگار کو آقا نے یہ عزت دی ہے
آپ کا ذکر کبھی کم نہیں ہوگا آقا
آپ کے ذکر کو اللہ نے رفعت دی ہے
آپ کا نام تو ہر غم کی دوا ہے آقا
آپ کے نام نے ہر رنج میں راحت دی ہے
معجزہ اُن کی صداقت کا ہوا یوں روشن
دستِ بوجہل میں کنکر نے شہادت دی ہے
میری پلکوں پہ چراغوں نے فروزاں ہوکر
اِک نئی نعت کے ہونے کی بشارت دی ہے
مجھ سے بے نام و نشاں کو میرے آقا نے صبیح
بخش کر ذوقِ ثناعزت و شہرت دی ہے
0 comments :
Post a Comment