Monday, May 19, 2014

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

انھیں خلق کرکے نازاں ہوا خود ہی دستِ قدرت
کوئی شاہ کار ایسا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

کسی وہم نے صدا دی کوئی آپ کا مماثل
تو یقین پکار اٹھاکبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

مرے طاقِ جاں میں نسبت کے چراغ جل رہے ہیں
مجھے خوف تیرگی کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

میرے دامنِ طلب کو ہے انھی کے در سے نسبت
کسی اور سے یہ رشتہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

میں ہوں وقفِ نعت گوئی، کسی اور کا قصیدہ
میری شاعری کا حصہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

سرِ حشر اُن کی رحمت کا صبیح میں ہوں طالب
مجھے کچھ عمل کا دعویٰ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

0 comments :

Post a Comment